جاناں جاناں ، کس کا مجموعہ کلام ہے؟
- شہزاد احمد
- تحسین فراقی
- ظفر اقبال
- احمد فراز
Explanation
اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں
اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں
یاد کیا تجھ کو دلائیں تیرا پیماں جاناں
یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں
زندگی تیری عطا تھی سو تیرے نام کی ہے
ہم نے جیسے بھی بسر کی تیرا احساں جاناں
دل یہ کہتا ہے کہ شاید ہو فُسردہ تو بھی
دل کی کیا بات کریں دل تو ہے ناداں جاناں
اول اول کی محبت کے نشے یاد تو کر
بے پیئے بھی تیرا چہرہ تھا گلستاں جاناں
آخر آخر تو یہ عالم ہے کہ اب ہوش نہیں
رگِ مینا سلگ اٹھی کہ رگِ جاں جاناں
مدتوں سے یہی عالم نہ توقع نہ امید
دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جانا! جاناں !
اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جانا
سر بہ زانوں ہے کوئی سر بہ گریباں جاناں
ہر کوئی اپنی ہی آواز سے کانپ اٹھتا ہے
ہر کوئی اپنے ہی سایے سے ہراساں جاناں
جس کو دیکھو وہ ہی زنجیز بپا لگتا ہے
شہر کا شہر ہوا داخل ہوا زِنداں جاناں
ہم بھی کیا سادہ تھےہم نےبھی سمجھ رکھاتھا
غمِ دوراں سے جدا ہے غمِ جاناں جاناں
ہم، کہ روٹھی ہوی رُت کو بھی منالیتےتھے
ہم نے دیکھا ہی نہ تھا موسم ہجراں جاناں
ہوش آیا تو سب ہی خاک تھے ریزہ ریزہ
جیسے اُڑتے ہوئے اُوراقِ پریشاں جاناں
Related MCQs
- تشبیہ
- استعارہ
- تجنیس
- کنایہ
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- چار
- پانچ
- چھ
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
اردو میں کتنے حرف ہیں؟
- 39
- 30
- 40
- 36
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- اللہ سے معافی
- اللہ سے دعا
- انبیاء کی تعریف
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- جواب وضاحت میں دیکھیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
Leave a Reply
Your email address will not be published. Required fields are marked *