Explanation
نثر: گرمی کا موسم تھا، دھوپ کی تیزی سے سمندر کا پانی بھاپ بن کر اٹھا اور بادل بن گیا تو ہوا نے آگے بڑھ کر اسے اپنے کاندھوں پر اٹھایا اور کہا: میں خشکی کی طرف سے آ رہی ہوں۔ وہاں سب انسان، حیوان، پیڑ اور پودے تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ اور --- اور کیا؟ پانی نے پوچھا۔ اور اللہ تعالیٰ سے تمہارے آنے کی دعا مانگ رہے تھے۔ میں سوچا جلدی سے چلوں اور تمہیں لے آؤں۔ ہوا بولی پانی نے کہا: ہاں باجی، تم نہ ہوتیں تو میں انسانوں، حیوانوں اور پیڑ پودوں اور ساری مخلوق کی پیاس بجھانے کیسے جاتا، وہ تو سب پیاس سے مر جاتے۔ تمہارا بہت بہت شکریہ!۔ نہیں بھئیا، شکریے کی اس میں کیا بات ہے! ہوا نے جواب دیا۔ تم تو میرے اپنے ہو۔ ہائیڈروجن اور آکسیجن میرے ہی تو حصے ہیں، جن سے مل کر تم بنے ہو۔ تمہیں کندھوں پر بٹھا کر خود میرا کلیجہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے ورنہ دھوپ کی تیزی تو مجھے جھلسا دیتی ہے۔ لوگ مجھ سے بیزار ہو جاتے ہیں اور تمہارے ساتھ چلتی ہوں تو انسان، حیوان، کھیت اور باغ سب مجھے خوش آمدید کہتے ہیں۔ پانی بولا: تم نہ ہوتیں تو میں زمین پر برستا نہ پہاڑوں پر جا کر برف کی شکل اختیار کرتا۔
پانی، ہائیڈروجن اور آکسیجن کا مرکب ہے جبکہ ہوا میں شامل ہیں؟ ہائیڈروجن، کاربن ڈائی آکسائڈ اور آکسیجن
اللہ تعالیٰ سے تمہارے آنے کی دعا مانگ رہے تھے۔ اس جملے کو مستقبل میں تبدیل کرنے کے لیے درست زمانے کی نشاندہی کیجیے؟ اللہ تعالیٰ سے تمہارے آنے کی دعا مانگ رہے ہوں گے۔
ہوا اور پانی کو انسانی رشتوں کا نام دینے کا مقصد ہے؟ قاری کو رشتوں کی قدر بتانا
پانی نے کہا: ہاں باجی، تم نہ ہوتیں تو میں انسانوں، حیوانوں اور پیڑ پودوں اور ساری مخلوق کی پیاس بجھانے کیسے جاتا، وہ تو سب پیاس سے مر جاتے۔ ان جملوں میں جو رموز و اوقاف مستعمل ہیں۔ وہ ہیں؟ تفصیلیہ، واوین، سکتہ، ختمہ اور استعجابیہ
درج بالا عبارت کا مرکزی خیال ہے؟ کائنات کی ہر چیز ایک دوسرے کی مدد کرتی ہے
Last verified on 20-03-2026