غزل کا آخری شعر جس میں شاعر تخلص بیان کرتا ھے
- مطلع
- مقطع
- دونوں
- ان میں سے کوئی بھی نہیں
Explanation
مقطع
مقطع کے معنی قطع کرنے کے ہیں چونکہ شاعر اپنی شاعری کا اختتامی شعر میں اپنا تخلص استعمال کرتا ہے، اسی آخری شعر کو اسے مقطع کہا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر نجؔف شیرازی کا مقطع دیکھیں جب سے دیکھا تجھے حال یہ ہے مرا مجھ کو کہتا ہے پاگل زمانہ نجؔف
مطلع
کسی بھی غزل کا (شاعری) میں پہلے شعر کو مطلع یا حسن مطلع کہتے ہیں جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتے ہیں۔
Related MCQs
- وہ حروف جن کی ادائیگی میں زبان کی نوک الٹ کر تالو سے لگائی جائے
- وہ حروف جو ہمیشہ ساکن ہوں
- وہ حروف جو صرف انگریزی میں استعمال ہوں
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- اسم اشارہ اور تلمیح
- اسم اشارہ اور مشارالیہ
- اسم اشارہ اور تشبیہ
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- تشبیہ
- استعارہ
- کنایہ
- مجاز
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- مرکب توصیفی
- مرکب اضافی
- مرکب جاری
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
Leave a Reply
Your email address will not be published. Required fields are marked *