تشبیہہ کے ارکان کی تعداد ـــــــ ہوتی ہے؟
- تین
- دو
- پانچ
- چھ
Explanation
تشبیہ کا لفظ "شبہ" سے نکلا ہے جس کے معانی "مماثل ہونا" کے ہیں۔
علم بیان کی اصطلاح میں جب کسی ایک شے کی کسی اچھی یا بری خصوصیت کو کسی دوسری شے کی اچھی یا بری خصوصیت کے معنی قرار دیا جائے تو اسے تشبیہ کہتے ہیں۔
تشبیہ کے پانچ ارکان ہیں۔تشبیہ کے ارکان
مشبّہ:جس چیز کو دوسری چیز کے مانند قرار دیا جائے وہ مشبّہ کہلاتی ہے۔
مشبہ بہ:وہ چیز جس کے ساتھ کسی دوسری چیز کو تشبیہ دی جائے یا مشبہ کو جس چیز سے تشبیہ دی جائے۔
حرفِ تشبیہ:وہ لفظ جو ایک چیز کو دوسری چیز جیسا ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے حرف تشبیہ کہلاتا ہے۔ مثلاً ہو بہو،مثل، گویا،صورت، جوں، سا، سی، سے، جیسا، جیسے، جیسی، مثال یا کہ وغیرہ۔ حرف تشبیہ کو اداتِ تشبیہ بھی کہا جاتا ہے۔
وجہِ شبہ: وجہ شبہ سے مراد وہ خوبی ہے جس کی بنا پر مشبہ کو مشبہ بہ سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔
غرضِ تشبیہ:وہ مقصد یا غرض جس کے لیے تشبیہ دی جائے۔
Related MCQs
- اسم مشتق
- اسم جامد
- اسم معرفہ
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- وقفہ
- ختمہ
- سوالیہ نشان
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- ماضی مطلق
- ماضی بعید
- ماضی قریب
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- علمُ النحو
- علمُ الاحکام
- علمُ الصرف
- علمُ البلاغت