Top Most Important Urdu MCQs, for PPSC, CSS, PMS, Inspector, ASI, Sub-inspector, Constable, FPSC, Corporal, ETEA, FIA, Police, Army, Navy, Airforce, IB, MOFA, ASF, LHC, Educators all other competitive exams and govt, private Jobs. most of these questions are also discussed on Pakmcqs official and Testpoint.pk. you can read the 100 most repeated Urdu MCQs, these questions get from past papers. If you want to download these most important URDU MCQs in PDF click mentioned button.
پی ڈی ایف میں ڈنلوڈ کرنے کے لیےاس لنک پر کلک کریں۔
شعری اصطلاح میں ردیف سے مراد وہ لفظ یا الفاظ کا مجموعہ ہے جو قافیے کے بعد مکرر آئیں اور بالکل یکساں ہوں۔ ردیف کا ہر مصرعے میں ہونا لازمی نہیں ہے۔ عام طور پر یہ غزل کے اشعار میں مصرعۂ ثانی میں دہرائے جاتے ہیں۔
تشبیہ کا لفظ "شبہ" سے نکلا ہے جس کے معانی "مماثل ہونا" کے ہیں۔
علم بیان کی اصطلاح میں جب کسی ایک شے کی کسی اچھی یا بری خصوصیت کو کسی دوسری شے کی اچھی یا بری خصوصیت کے معنی قرار دیا جائے تو اسے تشبیہ کہتے ہیں۔
تشبیہ کے پانچ ارکان ہیں۔تشبیہ کے ارکان
مشبّہ:جس چیز کو دوسری چیز کے مانند قرار دیا جائے وہ مشبّہ کہلاتی ہے۔
مشبہ بہ:وہ چیز جس کے ساتھ کسی دوسری چیز کو تشبیہ دی جائے یا مشبہ کو جس چیز سے تشبیہ دی جائے۔
حرفِ تشبیہ:وہ لفظ جو ایک چیز کو دوسری چیز جیسا ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے حرف تشبیہ کہلاتا ہے۔ مثلاً ہو بہو،مثل، گویا،صورت، جوں، سا، سی، سے، جیسا، جیسے، جیسی، مثال یا کہ وغیرہ۔ حرف تشبیہ کو اداتِ تشبیہ بھی کہا جاتا ہے۔
وجہِ شبہ: وجہ شبہ سے مراد وہ خوبی ہے جس کی بنا پر مشبہ کو مشبہ بہ سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔
غرضِ تشبیہ:وہ مقصد یا غرض جس کے لیے تشبیہ دی جائے۔
قصیدہ ہیئت کے اعتبار سے غزل سے ملتا ہے بحر شروع سے آخر تک ایک ہی ہوتی ہے پہلے شعر کے دونوں مصرعے اور باقی اشعار کے آخری مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں۔ مگر قصیدے میں ردیف لازمی نہیں ہے۔ قصیدے کا آغاز مطلع سے ہوتا ہے۔