ایک مرتبہ حضرتِ سیّدُنا ابراہیم علیہ السَّلام کی قوم کے افراد اپنے سالانہ عید میلے میں گئے،اُن کے چلے جانے کے بعد آپ علیہ السَّلام کلہاڑا لے کر بُت خانے گئے، جُھوٹے معبودوں کو دیکھ کر توحیدِ الٰہی کے جذبہ سے جلال میں آگئے اورایک بڑے بُت کے سوا سارے بُتوں کو توڑ پھوڑ ڈالا، پھر کلہاڑا بڑے بُت کے کندھے پر رکھ دیا
لیلۃ القدر یا شب قدر اسلامی مہینے رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں (اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائسویں اور انتیسویں) میں سے ایک رات جس کے بارے میں قرآن کریم میں سورہ قدر کے نام سے ایک سورت بھی نازل ہوئی ہے۔
اس رات میں عبادت کرنے کی بہت فضیلت اور تاکید آئی ہے۔ قرآن مجید میں اس رات کی عبادت کو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔
اس حساب سے اس رات کی عبادت 83 سال اور 4 مہینے بنتی ہے۔
حدیث شریف میں قرآن شریف پڑھنے پر جو ثواب کا حکم مذکور ہے وہ نفسِ قرأت پر ہے خواہ سمجھ کر قرآن شریف پڑھا جائے یا بغیر سمجھے بشرطیکہ حروف کی ادائیگی صحیح ہو تلاوت کرنے پر حروف نہ کٹتے ہوں؛ البتہ اگر تلاوت قرآن کے وقت ترتیل کی رعایت کرلی جائے تدبر اور فہم معنی کا لحاظ کیا جائے