شاعری: دل میں کہنے لگا یہ ایک گدھا نہ کھلا حال میری ذلت کا، کتنی محنت سے بوجھ اٹھاتا ہوں، ساری دنیا کے کام آتا ہوں
- جواب وضاحت میں دیکھیں
Explanation
شاعری: دل میں کہنے لگا یہ ایک گدھا نہ کھلا حال میری ذلت کا، کتنی محنت سے بوجھ اٹھاتا ہوں، ساری دنیا کے کام آتا ہوں، اک تماشا ہوں بے تمیزی کا، اک نمونہ ہوں بے و قوفی کا، شیر بھی تو ہے جانور مجھ سا، اس کی شان کیوں ہے بات ہے کیا؟, اس کی صورت سے لوگ ڈرتے ہیں، اس سے دبتے ہوئے گزرتے ہیں، جانور ہے میری طرح وہ بھی اس قدر کیوں ہے پھر اس کی۔
خط کشیدہ شعر میں شاعرانہ صنعت استمعال ہوئی ہے، اسے کہتے ہیں؟ تشبیہ
دبتے ہوئے گزرتے ہیں۔ کا مطلب ہے؟ کترا کر گزرنا
آخری مصرعے میں متشابہ کی قسم مستعمل ہے، جو کہلاتی ہے؟ متشابہ بلحاظ املا
نظم میں اس سے آگے چل کر گدھے نے کون سا قدم اٹھایا ہوگا؟ شیر بننے کی کوشش
بے وقوفی کی ضد ہے؟ عقل مندی
Last verified on 20-03-2026
Related MCQs
- زیور کا ڈبہ
- بھروپیا
- الحمداللہ
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- علمِ نحو
- علمِ بیان
- علمِ صرف
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- بھ، ٹھ، پھ وغیرہ والے الفاظ
- ظ، ض، ص وغیرہ والے الفاظ
- ث، ذ، ح وغیرہ والے الفاظ
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- مثنوی
- داستان
- مرثیہ
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- خطوط
- سوانح عمری
- سفرنامہ
- ان میں سے کوئی نہیں