شاعری: جونہی ٹکرے پہ اس کے منہ مارا اپنا ٹکڑا بھی کھودیا سارا واں نہ ٹکڑا، نہ اور کتا تھا
- جواب وضاحت میں دیکھیں
Explanation
شاعری: جونہی ٹکرے پہ اس کے منہ مارا
اپنا ٹکڑا بھی کھودیا سارا
واں نہ ٹکڑا، نہ اور کتا تھا
وہم تھا، وہم کے سوا کیا تھا
یونہی جتنے ہیں لالچی، نادان
کر کے لالچ اٹھاتے ہیں نقصان
باندھتے ہیں کہاں کہاں کے خیال
ہیں وہ کھو بیٹھتے گرہ سے مال
دی گئی نظم میں لفظ کہاں دو دفعہ لکھا ہے جسے شعری زبان میں کہتے ہیں؟ تکرار
اوپر دی گئی نظم میں رموز و اوقاف کی ایک علامت استعمال ہوئی ہے جس کا نام ہے؟ سکتہ
گرہ سے مال کھونا سے شاعر کی مراد ہے؟ کچھ بھی پاس نہ ہونا
نظم پڑھ کر دو جانوروں کی طرف خيال جاتا ہے جس میں ایک کتا ہے اور دوسرا؟ کتا
نظم کے دوسرے مصرعے میں "سارا" آخر میں اور "کھودیا" پہلے لکھا گیا ہے جس کی وجہ ہے؟ قا
فیہ "سارا" ہے
Last verified on 18-03-2026
Related MCQs
- کلیم الدین احمد
- ڈاکٹر عبادت بریلوی
- مسعود حسن رضوی ادیب
- ڈاکٹر رؤف پاریکھ
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- منو بھائی
- امجد اسلام امجد
- ڈاکٹر انور سجاد
- حسینہ معین
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- فیض احمد فیض
- علامہ اقبال
- عطا شاد
- احمد ندیم قاسمی
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- ڈپٹی نظیر احمد
- مولانا عبدالحلیم شرر
- مرزا ہادی رسوا
- منشی پریم چند
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- محمد لطیف
- مجتبی حسین
- ممتاز مفتی
- ڈاکٹر افتاب احمد