حدیث لا تُحصِيَ فَيُحصِيَ اللَّهُ عَلَيْكَ کا مفہوم کیا ہے؟
- دولت کم رکھو اسی میں بھلائی ہے
- دولت گن گن کر مت رکھو، ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کر ہی دے گا
- اللہ پاک کی عبادت ہر گز نہ چھوڑ دو
- ان میں سے کوئی نہیں
Explanation
حدیث "لا تُحصِ فَيُحصِيَ اللَّهُ عَلَيْكَ" کا مطلب ہے: اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو محدود نہ کرو۔
اگر تم گن گن کر (بخل سے) دو گے تو اللہ بھی تمہیں محدود رزق عطا کرے گا۔
Related MCQs
حدیث کو "حسن" کیوں کہا جاتا ہے؟
- Its narrator has weak memory
- Its narrator is a sinner (Fasiq)
- Its chain of transmission is broken
- None of these
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
حدیث کی کتاب الموطہ کس نے لکھی؟
- Imam Azam abu Hanifa
- Imam Ahmed bin Hambal
- Imam Malik
- Imam Hanbal
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
صحیفہ صادقہ (احادیث کا پہلا مجموعہ) کس نے مرتب کیا؟
- Imam Muslim (رضہ)
- Hazrat Abu Bakar (رضہ)
- Hazrat Abu Hurairah (رضہ)
- Hazrat Abdullah bin Amr (رضہ)
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
وہ حدیث جس کی ہر طبقے (طبقه) میں دو راوی ہوں اسے کیا کہتے ہیں؟
- Khabr-e-Mashhoor
- Khabr-e-Aziz
- Khabr-e-Gharib
- None of these
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
حدیث کے متن کے تجزیہ کو اصطلاح میں کیا کہتے ہیں؟
- Dirayat
- Mustalahat
- Asma al-Rijal
- Ahwal-al-Rawi
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
Leave a Reply
Your email address will not be published. Required fields are marked *