رباعی کس ادب سے آئی؟
- فارسی
- یونانی
- ہندی
- عربی
Explanation
رباعی عربی کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی چار چار کے ہیں۔ شاعرانہ مضمون میں رباعی اس صنف کا نام ہے جس میں چار مصرعوں میں ایک مکمل مضمون ادا کیا جاتا ہے۔ رباعی کا وزن مخصوص ہے، پہلے دوسرے اور چوتھے مصرعے میں قافیہ لانا ضروری ہے۔ تیسرے مصرعے میں اگر قافیہ لایا جائے تو کوئی عیب نہیں۔ اس کے موضوعات مقرر نہیں۔ اردو فارسی کے شعرا نے ہر نوع کے خیال کو اس میں سمویا ہے۔ رباعی کے آخری دو مصرعوں خاص کر چوتھے مصرع پر ساری رباعی کا حسن و اثر اور زور کا انحصار ہے۔رباعی کا موجد فارسی شاعر رودکی کو مانا جاتا ہے۔رباعی کے 24اوزان ہیں
Related MCQs
- ایسی بلندی ایسی پستی
- شبنم
- آگ
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- خدیجہ مستور
- پریم چند
- قراۃالعین حیدر
- عصمت چغتائی
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- میدانِ عمل
- گودان
- منگل سوتر
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- محمد حسن عسکری
- شمس الرحمٰن فاروقی
- محمد حسین آزاد
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- کنواں
- منٹو
- سپاہی
- ان میں سے کوئی نہیں