شاعری: سارا جہاں دن کو تری جلوہ گاہ ہے سچ تو ہے یہ زمانے کا تو بادشاہ ہے
- جواب وضاحت میں دیکھیں
Explanation
شاعری: سارا جہاں دن کو تری جلوہ گاہ ہے
سچ تو ہے یہ زمانے کا تو بادشاہ ہے
روشن ترے ہی نور سے ہوتے ہیں سب جہاں
گرمی سے تیری پکتی ہیں غلے کی کھیتیاں
گر تو نہ ہو اندھیرا یہ سارا جہاں رہے
دنیا میں زندگی کا نہ نام و نشان رہے
اے آفتاب! تجھ سا بنا دے خدا مجھے
علم و ہنر کا نور کرے وہ عطا مجھے
درج بالا اشعار کی مدد سے نظم کی بیت کی نشان دہی کیجیے؟
پابند نظم
دوسرے مصرعے میں لفظ بادشاہ سے مراد کیا ہے؟
روشنی کا ذریعہ
پانچواں اور چھٹا شعر وضاحت کرتا ہے کہ _____؟
سورج نہ ہو تو زندگی کا نام و نشان مٹ جائے
آخری شعر میں مصرعہءثانی مصرعہءاولیٰ کی/کا کیا کرتا ہے؟
تشریح
دیے گئے اشعار کا مرکزی خیال کیا ہے؟
انسان کو سورج کی طرح کارآمد ہونا چاہیے
Related MCQs
- ساحر لدھیانوی
- فیض احمد فیض
- احمد ندیم قاسمی
- اسیر عابد
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- جواب وضاحت میں دیکھیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- جوش ملیح آبادی
- الطاف حسین حالی
- مولانا محمد حسین آزاد
- None of these
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- اشفاق احمد ورک
- نسیم اشرف
- طارق مرزا
- نصیر اسلم
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- شوکت صدیقی
- خدیجہ مستور
- شوکت تھانوی
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
Leave a Reply
Your email address will not be published. Required fields are marked *