جب عشق سیکھاتا ہے آداب خود اگاہی۔۔۔کھلتے ہیں غلاموں پر اسراہ شہنشاہی۔۔۔ شعر میں ردیف ہے
- اگاہی
- شہنشاہی
- خوداگاہی
- کوئی بھی نہیں
Explanation
| ” | جب عشق سیکھاتا ہے آداب خود اگاہی کھلتے ہیں غلاموں پر اسراہ شہنشاہی | “ |
اس شعر میں الفاظ "ہی" ردیف ہے کیونکہ یہ قافیہ کے بعد دہرایا جا رہے ہیں اور تبدیل نہیں ہو رہے ا۔اداب ، اسراہ قافیے ہیں اور ان میں آخری اصلی حرف ب حرفِ ہ ہے
*****
| ” | جذبہ شوق کدھر کو لیے جاتا ہے مجھے پردائے راز سے کیا تم نے پکارا ہے مجھے | “ |
اس شعر میں الفاظ "ہے مجھے" ردیف ہے کیونکہ یہ قافیہ کے بعد دہرایا جا رہے ہیں اور تبدیل نہیں ہو رہے ا۔ جاتا اور پکارا قافیے ہیں اور ان میں آخری اصلی حرف الف حرفِ روی ہے
Related MCQs
- وہ حروف جن کی ادائیگی میں زبان کی نوک الٹ کر تالو سے لگائی جائے
- وہ حروف جو ہمیشہ ساکن ہوں
- وہ حروف جو صرف انگریزی میں استعمال ہوں
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- اسم اشارہ اور تلمیح
- اسم اشارہ اور مشارالیہ
- اسم اشارہ اور تشبیہ
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- تشبیہ
- استعارہ
- کنایہ
- مجاز
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- مرکب توصیفی
- مرکب اضافی
- مرکب جاری
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
Leave a Reply
Your email address will not be published. Required fields are marked *