عدی بن حاتم مشہور سخی حاتم طائی کے بیٹے تھے۔ آپ اپنے قبیلہ طی کے سردار تھے۔ ابتدا میں بت پرست تھے لیکن بعد میں مسیح مذہب قبول کر لیا اور آخر میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ اور حضرت علی کے تعلق بہت اچھے تھے اس لیے جنگ جمل ، جنگ صفین اور جنگ نہروان میں حضرت علی کے دست راست رہے۔
صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ اسی کتاب کی بدولت قوموں کو اُٹھائے گا‘ترقی دے گا‘عروج بخشے گا‘انہیں اس دنیا میں بلندی سے سرفراز فرمائے گا‘اور اسی کتاب کو چھوڑنے کے باعث قوموں کو ذلیل و خوار کرے گا.
صلاح الدین ایوبی جو ایوبی سلطنت کے بانی تھے 55 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔
حطین کی فتح کے بعد صلاح الدین ایوبی نے بیت القدس کی طرف رخ کیا۔ جنگ حطین 1187ء کو مسیحی سلطنت یروشلم اور ایوبی سلطان صلاح الدین کی افواج کی درمیان لڑی گئی۔
فتح مکہ کے موقع پر 8 ہجری میں ﷺنے بیت اللہ کی چابی بنو شیبہ سے تعلق رکھنے والے عثمان بن ابی طلحہؓ کے حوالے کی اور فرما یاکہ یہ چابی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بنو شیبہ کے پاس ہی رہے گی اور اس کو ظالم شخص کے سوا کوئی نہ چھینے گا۔ اُس دن سے آج تک بنو شیبہ کے فرزندان ہی کو کعبہ کا کلید بردار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
ارق بن زیاد (انتقال 720ء) بربر نسل سے تعلق رکھنے والے مسلمان اور بنو امیہ کے جرنیل تھے۔ انہوں نے 711ء میں ہسپانیہ (اسپین) کی مسیحی حکومت پر قبضہ کرکے یورپ میں مسلم اقتدار کا آغاز کیا۔