اللہ تعالی نے تلاوت کا حکم فرمایا ہے وَاتْلُ مَا أُوحِیَ إِلَیْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ اور بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت تلاوت قرآن فرمایا کرتے تھے جس کی شہادت قرآن نے دی ہے یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ آیَاتِہِ صحابہ کرام بکثرت تلاوت فرمایا کرتے تھے بہت سے صحابہ کرام کا تین دن میں اور سات دن میں قرآن ختم کرنے کا معمول تھا۔
نمازِ جمعہ مکہ معظمہ میں فرض ہوچکی تھی؛ لیکن اس کی سب سے پہلے ادائیگی مدینہ منورہ میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے فرمائی،اس پہلے جمعہ میں 40حضرات شریک تھے، پھر جب آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرماکر مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے پہلا جمعہ "قبا" سے روانہ ہوکر محلہ بنو سالم بن عوف میں ادا فرمایا۔ جہاں بعد میں ایک مسجد بنادی گئی، جو "مسجدِ جمعہ" کے نام سے موسوم ہوئی
ایک مرتبہ حضرتِ سیّدُنا ابراہیم علیہ السَّلام کی قوم کے افراد اپنے سالانہ عید میلے میں گئے،اُن کے چلے جانے کے بعد آپ علیہ السَّلام کلہاڑا لے کر بُت خانے گئے، جُھوٹے معبودوں کو دیکھ کر توحیدِ الٰہی کے جذبہ سے جلال میں آگئے اورایک بڑے بُت کے سوا سارے بُتوں کو توڑ پھوڑ ڈالا، پھر کلہاڑا بڑے بُت کے کندھے پر رکھ دیا
لیلۃ القدر یا شب قدر اسلامی مہینے رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں (اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائسویں اور انتیسویں) میں سے ایک رات جس کے بارے میں قرآن کریم میں سورہ قدر کے نام سے ایک سورت بھی نازل ہوئی ہے۔
اس رات میں عبادت کرنے کی بہت فضیلت اور تاکید آئی ہے۔ قرآن مجید میں اس رات کی عبادت کو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔
اس حساب سے اس رات کی عبادت 83 سال اور 4 مہینے بنتی ہے۔