شراب کی حد 80 کوڑے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں مقرر کی گئی تھی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب لوگوں میں شراب نوشی کی وبا عام ہوگئی
اور اس کے روک تھام کے لیے سخت اقدام کی ضرورت محسوس کی گئی
نمازِ جمعہ مکہ معظمہ میں فرض ہوچکی تھی؛ لیکن اس کی سب سے پہلے ادائیگی مدینہ منورہ میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے فرمائی،
اس پہلے جمعہ میں 40حضرات شریک تھے،
پھر جب آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرماکر مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے پہلا جمعہ "قبا" سے روانہ ہوکر محلہ بنو سالم بن عوف میں ادا فرمایا۔
جہاں بعد میں ایک مسجد بنادی گئی، جو "مسجدِ جمعہ" کے نام سے موسوم ہوئی۔
حضور ﷺ نے فرمایا : ” چچا ! خدا کی قسم اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی لاکر رکھ دیں اور یہ مطالبہ کریں کہ یہ کام چھوڑ دو تو یہ نہیں ہوسکتا ، میں یہ کام کرتارہوں گا جب تک یہ دین غالب نہیں ہوجاتا یا میں ہلاک نہیں ہوجاتا۔
کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی آواز روندھ گئی اور آپ روپڑے اور اٹھ کر چلے گئے۔ جب آپ چلے گئے
تو ابو طالب نے آواز دی : بھتیجے ! ادھر آﺅ، رسول اللہ ﷺ واپس ہوئے تو انہوں نے کہا ” جاﺅ جو چاہو کرو ، خدا کی قسم میں تمہیں کسی قیمت پر ان کے حوالے نہ کروں گا “
ترتیب کے اعتبار سے قرآن مجید کی تیسری سورت جو مدینے میں نازل ہوئی۔۔
اس سورت کا خطاب یہود و نصاریٰ اور مسلمان سے ہے۔
اول الذکر گروہوں کو ان کی اعتقادی گمراہیوں اور اخلاقی خرابیوں پر تنبیہ کے بعد فرمایا گیا ہے کہ قرآن اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمھیں اسی دین کی طرف بلا رہے ہیں،
جس کی دعوت انبیا علیہم السلام شروع سے دیتے چلے آ رہے ہیں۔
اس دین کے سیدھے راستے سے ہٹ کر جو راہیں تم نے اختیار کر رکھی ہیں۔
وہ خود ان کتب میں موجود نہیں ہیں جن کو تم کتب آسمانی تسلیم کرتے ہو۔