مست رکھو ذکر و فکر صبح گاہی میں اسے، پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں اسے۔ یہ شعر علامہ اقبال کے کس مجموعہ کلام سے ہے؟
- بال جبریل
- ارمغان حجاز
- بانگ درا
- اسرار رموز خودی
Explanation
"مست رکھو ذکر و فکر صبح گاہی میں اسے
پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں اسے"
واقعی علامہ محمد اقبال کا ہے، اور یہ ان کے مجموعہ کلام "ارمغانِ حجاز" سے لیا گیا ہے۔
Related MCQs
- میر تقی میر
- علامہ اقبال
- فیض احمد فیض
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- مولانا ابوالکلام آزاد
- مولانا محمد علی جوہر
- مولانا حالی
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- مولوی عبدالحق
- شبلی نعمانی
- رشید احمد صدیقی
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- بانو قدسیہ
- اشفاق احمد
- قدرت اللہ شہاب
- ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
- سعادت حسن منٹو
- غلام عباس
- پریم چند
- کرشن چندر