یاد رکھیں گیس پیپر کو پی ڈی ایف میں ڈنلوڈ کرنے
سےبہترہے، یہاں ویب سائیٹ سے وضاحت کے ساتھ پڑھیں۔ کیونکہ ان سوالات کے
متعلق ہی بار بار سوالات بعض اوقات پیپرمیں پوچھے جاتے ہیں اوراس کے علاوہ
ویب سائیٹ پر آئے روز پیپرز کے مطابق نیو سوالات بھی ایڈ کیے جاتے ہیں ۔ اس
لیے وضاحت کے ساتھ پڑھنے سے اپکی تیاری انشا اللہ اچھی ہو جائے گی۔
اورنگ زیب خاںاورنگ زیب خاں نام اور قتیل تخلص تھا۔۲۴؍دسمبر ۱۹۱۹ء کو ہری پور، ضلع ہزارہ (صوبہ سرحد) میں پیدا ہوئے۔ حکیمیحییٰ خاں شفا کے شاگرد تھے۔اسی مناسبت سے شفائی کہلاتے تھے۔’’ادب لطیف‘‘ اور ’’سنگ میل‘‘ کے مدیر رہے۔۱۱؍جولائی ۲۰۰۱ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’ہریالی‘، ’گجر‘، ’جلترنگ‘، ’روزن‘ ، ’جھومر‘، ’مطربہ‘، ’گفتگو‘، ’چھتنار‘،’آموختہ‘، ’پیراہن‘، ’ابابیل‘، ’برگد‘، ’گھنگرو‘، ’رنگ ،خوش بو، گیت‘(شاہ کار گیت) ، ’مونالیزا‘، ’سمندر میں سیڑھی‘۔
پشاور میں یکم اکتوبر1898 کو پیدا ہوئے۔ 5دسمبر 1958 کو ان کا انتقال ہوا۔پطرس کے مضامین (1928)، دیہات میں بوائے اسکاؤٹ (ترجمہ،1934)، تعلیم خصوصاً اوائل طفلی میں (برٹرنڈرسل کی تصنیف کا ترجمہ، 1935)، نوع انسان کی کہانی (ترجمہ، 1939)، ڈرامہ اور ٹھیٹر پر بہت سے مضامین ہیں
پنجابی ایک ہند یورپی زبان ہے جو باشندگانِ خطۂ پنجاب میں مروّج ہے۔ پنجابی بولنے والوں میں ہندو مت، سکھ مت، اسلام، اور مسیحیت کے پیروکار شامل ہیں۔بابا بھلے شاہ، وارث شاہ،انور مسعود وغیرہ پنجابی زبان کے شاعر ہیں۔ایس.آئی.ایل نژادیہ کے 1999ء کی شماریات کے مطابق پنجابی اور ہندی دُنیا میں گیارویں سب سے زیادہ بولی جانی والی زبان ہے۔