قرآن شریف میں ان کا تذکرہ بغیر نام کے ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی ہم عصر تھی۔ اس کی قوم سورج کی پرستش کرتی تھی۔
حضرت سليمان علیہ السلام نے اسے اسلام کی دعوت دی۔ اس نے اپنے سرداروں سے مشورہ کے بعد طے کیا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا امتحان لیا جائے۔ اگر وہ سچے پیغمبر ہوں تو اُن کا مذہب اختیار کیا جائے۔ چنانچہ جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ حقیقت میں پیغمبر ہیں تو اس نے خود ان کے پاس جاکر ایمان لانے کا فیصلہ کیا۔
ملکہ سبا کے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچنے سے قبل حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کا تخت منگوانے کی خواہش کا اظہار کیا تو آصَف بن برخیاہ جو سلیمان کا وزیر تھا اس نے کہا کہ میں آنکھ جھپکنے سے پہلے اس کو لا سکتا ہوں، جسے ان کے پاس دیکھ کر اس کا اعتقاد اور بھی پُختہ ہو گیا اور وہ اپنی قوم کے ساتھ ایمان لے آئی۔
اور جو شخص ان سے اس موقع پر پشت پھیرے گا مگر ہاں جو لڑائی کے لئے پینترا بدلتا ہو یا جو ( اپنی ) جماعت کی طرف پناہ لینے آتا ہو وہ مستشنٰی ہے باقی اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ کے غضب میں آجائے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے ۔
قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں دو فرعونوں کا ذکر ہے ایک وہ جس کے زمانے میں آپ پیدا ہوئے اور جس کے گھر میں پرورش پائی دوسرا وہ فرعون جس کے پاس آپ دعوت لے کر پہنچے اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ کیا۔