ISLAMIC STUDIES MCQS URDU
Islamic Studies MCQs Urdu
Show Answers
چار آپشن میں سے کسی ایک پر کلک کرنے سے جواب سرخ ہو جائے گا۔
بردباری اور استقامت
غرور و فخر کا اظہار کرنا
محمدی کرنا
ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
Explanation
تحمل کا مفہوم بردباری اور استقامت ہے۔
امام حسن
ابو حنیفہ
ابو عمران
ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
Explanation
حضرت علی بن عثمان ہجویری کنیت امام حسن ہے۔
دس
بارہ
تیرہ
ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
Explanation
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طائف والوں کو حق کی طرف دس دن تک بلاتے رہے۔
ملتان
لاہور
سیالکوٹ
ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
Explanation
حضرت علی بن ہجویری جب تک زندہ رہے لاہور میں تبلیغ دین کا سلسلہ جاری رکھا۔
مجلسوں میں
گھروں میں
درسگاہوں میں
ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
Explanation
مجلسوں میں کہی ہوئی بات امانت ہے۔
سورت البقرہ
سورت الرحمن
سورت آل عمران
ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
Explanation
مومنو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو ۔ یہ آیت سورت البقرہ میں ہے۔
یہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 183 کا ترجمہ ہے۔
بیت الخلاء سے نکلنے کی
بیت الخلاء میں داخل ہونے کی
سورج نکلنے کی
ان میں سے کوئی نہیں
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
Explanation
غفرانک بیت الخلاء سے نکلنے کی دعا ہے۔
حدیث
آیت
حدیت قدسی
قول
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
Explanation
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب کوئی آدمی تم سے کوئی بات بیان کرے پھر (اسے راز میں رکھنے کے لیے) دائیں بائیں مڑ کر دیکھے تو وہ بات تمہارے پاس امانت ہے
دس کلومیٹر
پچاس کلو میٹر
نوے کلو میٹر
دو سو کلو میٹر
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
Explanation
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بعثت کے دسویں سال طائف کا سفر کیا جو سفر طائف کہلاتا ہے۔
آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے طائف میں دس دن قیام فرمایا تھا۔
طائف مکہ سے تقریباً چالیس میل کے فاصلے پر خوب صورت وادی ، زرخیز باغات اور پہاڑ وں سے مزین علاقہ ہے۔
یمن
شام
عراق
ایران
اس سوال کو وضاحت کے ساتھ پڑھیں
Explanation
آپ صلی اللہ علیہ وسلم 25 برس کے ہوگئے تو آپ کے چچا ابو طالب نے کہا کہ اے بھتیجے! میں ایسا شخص ہوں کہ میرے پاس مال نہیں ، زمانہ کی سختیاں ہم پر بڑھتی جا رہی ہیں، تمہاری قوم کا شام کی طرف سفر کرنے کا وقت قریب ہے۔
خدیجہ بنت خویلد اپنا تجارتی سامان دوسروں کو دے کر بھیجا کرتی ہے، تم بھی اجرت پر اس کا سامان لے جاؤ، اس سے تمہیں معقول معاوضہ مل جائے گا۔